Home Blog

بکریاں کیسے پالیں؟

0
بکریاں کیسے پالیں

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بکریاں کیسے پالیں گے؟ بکریوں کو کاروباری یا ذاتی استعمال کے لیے پالا جاتا ہے۔ بکریاں کاروباری لحاظ سے ایک مثبت جانور سمجھا جاتا ہے۔ مسلمانوں میں بکری کو ایک بہت ہی عزیز جانور سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ مسلمانوں کے تمام پیغمبروں کا پیشہ رہ چکی ہے۔ بکریوں کو پالنا اور سنبھالنا ایک نہایت ہی مفید اور پسندیدہ عمل سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان میں زیادہ تر لوگ بکریوں کو شوق کے لیے پالتے ہیں۔

بکریوں سے دو طرح سے فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے پہلا اس کا دودھ حاصل کرکے اور دوسرا اس کا گوشت حاصل کرکے۔ بکری کا گوشت کم چکنائی والا ہوتا ہے اس لیے اس کی مانگ میں بہت زیادہ اضافہ ہے۔ جبکہ بکریوں کے فضلاء سے بیشتر فرٹیلائزر بنائے جاتے ہیں اور کھیتی باڑی میں استعمال کیے جاتے ہیں۔

بکریاں کیسے پالیں

اگر آپ کے گھر میں ایک چھوٹا سا باغ موجود ہو تو آپ ایک بکری کو باآسانی رکھ سکتے ہیں اور اس کے فضلاء کو اپنے باغ میں کھاد کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔ اگر آپ ان تمام مفاد پر غور و فکر کریں تو آپ کو معلوم ہوگا بکری پالنے میں کسی بھی قسم کا کوئی نقصان موجود نہیں ہے۔

پاکستان میں بکریوں کو غریب کی گائے بھی کہا جاتا ہے۔ اس محاورے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے لوگ بکری کو ایک مفید جانور سمجھتے ہیں جو کہ گائے کے برابر ہو سکتی ہے۔

بکری کی خریداری

چند سال قبل بکری خریدنے کے لئے صرف منڈی سے رجوع کرنا ہوتا تھا۔ جو کہ صرف مخصوص شہروں میں منعقد ہوتی تھی۔ آج بھی پاکستان میں بکریوں کی تجارت منڈیوں سے ہی کی جاتی ہے۔ لیکن اب اس جدید دور میں منڈی بھی آن لائن آ چکی ہے اور آپ آن لائن تجارت بھی کر سکتے ہیں۔ اس کی ایک بہترین مثال OLX.com ہے۔

جب بھی آپ کسی بکری کا انتخاب کریں تو یہ ضرور مد نظر رکھیں کہ آپ گوشت کے لئے یا دودھ کے لئے لیے بکری کا انتخاب کر رہے ہیں۔ ایک بکری ایک وقت میں ایک خصوصیات کی حامل ہو سکتی ہے یا وہ زیادہ دودھ پیدا کرسکتی ہے یا وہ زیادہ گوشت دے سکتی ہے۔

اگر آپ کو یہ دونوں چیزیں بیک وقت ایک بکری میں حاصل کرنا ہو تو آپ کو کراس بریڈ کا انتخاب کرنا پڑے گا۔ کراس بریڈ میں آپ کو دودھ اور گوشت مناسب مقدار میں مہیا کرنے والی بکریاں مل سکتی ہیں۔

اگر تو آپ اپنے شوق کے لیے یا گھریلو استعمال کے لیے بکری کا انتخاب کر رہے ہیں, تو اس میں کسی بھی قسم کی کوئی خصوصیات دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ یہ آپ کا شوق ہے اور جو آپ کے دل کو پسند آئے آپ اس کا انتخاب کریں۔

لیکن اگر آپ تجارتی مقاصد حاصل کرنے کے لیے بکری کا انتخاب کر رہے ہیں تو مندرجہ ذیل چیزوں پر ضرور غور کریں۔

  • بکری کا قد اونچا ہونا چاہیے
  • بکری کا جسم لمبا ہونا چاہیے
  • بکرے کی عمر زیادہ نہیں ہونی چاہیے زیادہ سے زیادہ انتخاب کرتے وقت بکری کی عمر دو سال ہونی چاہیے
  • بکری کے تھن برابر ہونے چاہیے اور نہ زیادہ بڑے اور نہ زیادہ چھوٹے ہونے چاہیے
  • بکری کیسی نسل کی ہونی چاہیے اور کراس بریڈ ہرگز نہیں ہونی چاہیے
  • بکری کے کولہے کی ہڈی موٹی اور گوشت دار ہونی چاہیے
  • بکرے کی پسلیاں نظر نہیں آنی چاہیے
  • پاؤں کے ناخن برابر ہونے چاہیے
  • حفاظتی ٹیکہ جات لگے ہونے چاہیے
  • صحت مند ہونے کے ساتھ ساتھ خوبصورت ہونی چاہیے
  • بکری کے کان لمبے اور چھوٹے سینگ ہونے چاہیے

بکریوں کی خوراک

بکریوں کا ایک عام کلیہ یہ ہے کہ آپ اپنی بکریوں کو گرم خوراک کھلائی۔ جیسے جو جو کا دلیہ وغیرہ۔ اس کے علاوہ بکریوں کی خوراک میں سبز چارہ خشک چارہ اور خمیرہ چارہ استعمال کیا جاتا ہے۔

سبز چارہ

  • جوار کا چارہ
  • مکئی کا چارہ
  • کماد کا چارہ
  • لوسن کا چارہ

خشک چارہ

  • لوسن کا خشک چارہ

خمیرہ چارہ

  • جوار کا خمیرہ چارہ
  • مکئی کا خمیرہ چارہ
  • کماد کا خمیرہ چارہ

اس کے علاوہ بھرپور توانائی کے لیے اجناس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسے مکئی ، گندم ، گندم کی چوکر ، چاول کی چوکر ، چاول پالش ، سیاہ چنا ، سرسوں وغیرہ۔

بکری کی فی دن چارے کی کھپت

چارہ کھپت
جوار کا سبز چارہ 5-6 KG
جوار کا خمیرہ چارہ 1.5-2.5 KG
مکئی کا سبز چارہ 5-6 KG
مکئی کا خمیرہ چارہ 1.5-2.5 KG
کماد کا سبز چارہ 5-6 KG
کماد کا خمیرہ چارہ 1.5-2.5 KG
لوسن کا سبز چارہ 5-6 KG
لوسن کا خشک چارہ 2-2.5 KG

اناج کا کھانا (ونڈا) گوشت اور دودھ کے لیے

اناج کھپت
مکئی 30%
گندم 30%
گندم کی چوکر 10%
چاول کی چوکر 10%
چاول پالش 5%
سیاہ چنا 10%
سرسوں یا کھال بانوولا (صرف دودھ والے جانور کے لیے) 5%

شدید سردیوں میں جانوروں کا خیال کیسے رکھا جائے؟

0
شدید سردیوں میں جانوروں کا خیال کیسے رکھا جائے؟

جانوروں کو بھرپور خوراک کھلائیں، بھوکے جانور کو سردی زیادہ لگتی ہے۔ بھینس کو گائے کی نسبت زیادہ سردی لگتی ہے۔ جانوروں کو 100 گرام گڑ دیں، بہتر ہے شام کو دیں یا ونڈے میں شیرہ مکس کریں۔ ہمیشہ تازہ پانی پلائیں، ٹھنڈا پانی جانور کے جسمانی درجہ حرارت کو کم کردیتا ہے اور زیادہ ٹھنڈا پانی بیمار کر سکتا ہے۔

	  گڑ دیں یا ونڈے میں شیرہ مکس کریں

جانور کو زیادہ گیلے فرش پر نہ رکھا جائے۔ گیلے جانور کو دن میں بھی سردی لگے گی اور زیادہ گندگی سے جانوروں کو ساڑو، میسٹائٹس حیوانے کی سوزش بھی ہوسکتی ہے۔ باڑے کی صفائی روزانہ کی جائے تاکہ زہریلی گیسیں کم مقدار میں پیدا ہوں۔ ٹھنڈی ہوا سے بچاؤ کے لیے باڑے کی چادریں زمین تک ہوں لیکن روشن دان چھت کے قریب ضرور ہوں تاکہ تازہ ہوا کا گزر ہوسکے اور ہوا جانور کو براہِ راست بھی نہ لگے۔

شدید سردی کے دنوں میں اضافی خرچ ضرور ہوگا لیکن یہ اضافی خرچ آپ کو نقصان سے بچائے گا۔ جب تک سردی شدید ہے کھل کی مقدار تھوڑی کم کردیں۔ کھل میں پروٹین ہوتی ہے اور سردی کے چارہ جات میں گرمیوں کے چارہ جات کی نسبت پروٹین زیادہ ہوتی ہے۔ کھل کی جگہ پر سردی کے دنوں میں ونڈا یا دانہ اناج کی مقدار تھوڑی بڑھا دیں۔

لوسن، برسیم وغیرہ زیادہ پروٹین والے چارہ جات استعمال کر رہے ہوں تو ونڈا میں کھل پروٹین 30-35 فیصد سے زیادہ نہ ہو۔ چھوٹے بچوں کو ٹھنڈے فرش سے بچائیں ہے۔ چھوٹے بچے اپنا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں۔ جب جانور کا جسم اور پیٹ زیادہ ٹھنڈے فرش پر رہتا ہے تو نمونیا ہوسکتا ہے۔ چھوٹا بچہ اپنی جسم کی توانائی ٹھنڈے موسم میں اپنے آپ کو گرم رکھنے کے لیے زیادہ استعمال کرتا ہے اور کمزور ہوجاتا ہے۔ پرالی، گنے کا پھوک، مکئی، باجرے کے خشک ٹانڈے وغیرہ ان کے نیچے ضرور ڈالیں۔

بھوسے یا تنکے کا بستر

چھوٹے بچوں کو کم از کم 6 انچ موٹی تہہ پرالی کی بنا کر دیں۔ جانوروں میں سوئے(پیدائش) کا موسم بھی ہے، پیدائش کے کچھ دن بعد تک بڑے جانور کو بھی ٹھنڈے فرش سے بچائیں، پرالی وغیرہ نیچے ضرور ڈالیں۔

تحریر Ayesha Zahoor

بکری بکرے کے عام امراض

0
بکری بکرے کے عام امراض

بکری بکرے کے عام امراض سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے جانوروں کو صحت مند رکھیں اور صحت مند غذا کا استعمال کریں۔ جب بھی جانور کو خریدیں تو اس بات کا خاص خیال رکھیں، کہ ماضی میں جانور کو حفاظتی ٹیکہ جات لگائے گئے ہیں کہ نہیں۔

اگر آپ کوئی بھی ایسا جانور خریدتے ہیں جس کو ماضی میں حفاظتی ٹیکہ جات نہیں لگائے گئے تو اس کو اپنے باقی جانوروں سے دور رکھیں اور مسلسل مشاہدہ کریں کہ کیا وہ جانور صحت میں بالکل ٹھیک ہے کہ نہیں۔ جب تک آپ کو اس بات کی مکمل تسلی نہ ہو جائے کہ وہ بنا کسی بیماری کے آپ کے پاس موجود ہے تب تک اس کو اپنے جانوروں میں شامل نہ کریں۔

اگر آپ اپنا فارم شروع کرنا چاہتے ہیں یا آپ ایک چھوٹے فارمر ہیں تو اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ آپ کو ایک ویٹرنری ڈاکٹر کی ضرورت ہے جو آپ کو وقتاً فوقتاً اپنی خدمات سرانجام دے۔ کیونکہ آپ بکروں کی عام بیماری کی تشخیص خود نہیں کر سکتے اور نہ ہی اس کا علاج خود کرسکتے ہیں لہٰذا ویٹرنری ڈاکٹر سے مسلسل رابطے میں رہیں۔ اگر آپ کے کسی بھی جانور کو متعدی بیماری کی علامت موجود ہے تو اس کو فی الفور اپنے تمام جانوروں سے الگ کر دیں۔

بکری بکرے کے عام امراض

  • کیپرین گٹھیا انسیفلائٹس
  • گردے کی پتھری
  • آنتوں اور معدے کی بیماری (انٹرٹوکسیمیا)

CAE) Caprine Arthritis Encephalitis) کیپرین گٹھیا انسیفلائٹس

یہ بیماری ناقابل علاج، متعدی اور تباہ کن ہے آپ کے جانوروں کے لیے۔ یہ بیماری انسانوں میں پائی جانے والی بیماری ایڈز کی طرح ہے جس سے جانوروں کی قوت مدافیت کم ہوتی جاتی ہے۔عام زبان میں اس کو جوڑوں کی بیماری بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ جوڑوں پے سوجن پیدا کر دیتا ہے۔ یہ بیماری ماں سے بچے کو لگتی ہے ہے اور اس کا ذریعہ پہلا دودھ ہوتا ہے۔

کیپرین گٹھیا انسیفلائٹس(CAE)

اگر آپ کی کسی بھی بکری میں یہ بیماری موجود ہے اور وہ حاملہ ہے تو کوشش کیجئے کہ اس کے بچے کو کو دودھ گرم کر کے پلایا جائے اور ماں کے تھنوںسے سیدھا رسائی نہ دی جائے۔ دودھ کو کم سے کم (165F یا 74C) سے گرم کیا جائے 15 سیکنڈ تک۔ تاکہ دودھ میں موجود بیکٹیریا کو ختم کیا جا سکے اور اس بیماری کو بچے تک پہنچنے نہ دیا جائے۔ اس بیماری میں بہتر تو یہ ہے کہ آپ بکری کے بچے کو مصنوعی دودھ پلائے۔

اور یاد رکھیں  اپنے ہر جانور کا (CAE) ٹیسٹ کروائیں۔ اگر جانور کا ٹیسٹ نیگیٹو آئے تب ہی اس کو خریدیں۔ لہذا جب بھی جانور خریدیں ویٹنری ڈاکٹر کو ساتھ لے کر جائے تاکہ وہ بروقت خریدے گئے جانور کی تشخیص کر سکے اور آپ کو بتا سکے کہ کون سا جانور صحت مند ہے اور آپ کے لیے بہتر ہے۔

گردے کی پتھری یا کڈنی سٹون (Urinary calculi)

یہ بیماری بکروں کے علاوہ انسانوں میں بھی پائی جاتی ہے جس کو ہم گردے میں پتھری کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ بیماری زیادہ تر اناج کھلانے کی وجہ سے جانوروں میں پائی جاتی ہے۔ لہذا اگر آپ اپنے جانوروں کو کسی بھی قسم کا اناج یا دانہ ڈالتے ہیں تو کوشش کریں اس کو صاف کر کے ڈالیں۔ اگر آپ اپنے اناج کو صاف نہیں کرتے تو یاد رکھیں اناج کے ساتھ بہت کم مقدار میں مٹی کے ذرات جڑے ہوتے ہیں جو کہ آہستہ آہستہ گردے میں جاکے پتھری کا سبب بنتے ہیں۔

اس کی وجہ سے جانوروں کی پیشاب کا اخراج کم مقدار میں ہوتا ہے اور پیشاب جسم کے اندر ہی بنتا رہتا ہے۔ زیادہ تر دیکھا گیا ہے کہ اگر آپ اپنے جانوروں کی کم عمری میں کاسٹریشن کرتے ہیں تو ان میں پتھری کا سبب بن جاتا ہے۔ جب تک آپ کے جانور کی عمر آٹھ مہینے تک نہ ہوجائے اس کو بالکل خصی نہ کریں۔ چھوٹی عمر میں خصی کیے جانے والے جانوروں میں اموات کی توقع زیادہ ہوتی ہے۔

عضو تناسل کا سوج جانا

 

یہ امراض غلیظ پانی پینے سے بھی پیدا ہوتا ہے لہذا اپنے جانوروں کو ہمیشہ صاف اور تازہ پانی پلائے۔ اگر آپ دیکھیں کہ آپ کے جانوروں کا عضو تناسل سوجا ہوا ہے یا پھر پیشاب میں ایک دم کمی واقع ہو گئی ہے تو یقین کیجئے ممکنہ حد تک اس کے گردے میں پتھری ہو سکتی ہے۔

اس بیماری کی چند نشانیاں
  • پیشاب میں کمی واقع ہونا
  • عضو تناسل کا سوج جانا
  • پیشاب کرتے ہوئے عجیب قسم کی آوازیں نکالنا
  • اپنے دانتوں کو مسلسل پیسنا

آنتوں اور معدے کی بیماری (انٹرٹوکسیمیا)

معدے کی بیماری (Enterotoxemia) بہت ہی خطرناک اور عام پائی جانے والی بیماری ہے۔ کئی کیسز میں اس کا علاج ناممکن ہے۔ اگر احتیاط برتی جائے تو اس بیماری سے بچا جا سکتا ہے۔ یہ دو قسم کے بیکٹیریا سے پیدا ہوتا ہے جس کو عام طور پر (C & D Clostridium perfringens) کہا جاتا ہے۔

آپ اس بیکٹیریا کو زمین میں یا پھر صحت مند جانوروں کے معدے میں تلاش کر سکتے ہیں۔ کی جانوروں میں یہ بیماری بہت تیزی سے بڑھتی ہے اور آنت میں دباؤ پیدا کرتی ہے جس کی وجہ سے معدہ اور آنتوں میں سوزش پیدا ہوجاتی ہے۔ دباؤ کے بھرنے سے زہریلی گیس سے اور زہریلا مواد آنتوں میں ہی موجود رہتا ہے۔ جوکہ جگر معدے اور آنتوں کی سوزش کی وجہ بنتا ہے۔

اس بیماری کی بڑی وجہ
  • چارے میں اناج کی زیادہ مقدار اور دودھ کی ضرورت سے زیادہ خوراک
  • جانور بیماری سے صحت یاب ہو رہا ہے یا جانوروں پر دباؤ ہے
  • جب کیڑے جانوروں کے ہاضمے کے اندر ہوتے ہیں
  • جب گھاس یا ہریالی کو جانوروں کو کم مقدار میں اور زیادہ مقدار میں فائبر فیڈ کھلایا جاتا ہے
  • جب نظام ہاضمہ خراب ہوجاتا ہے یا بھاری فیڈ کی وجہ سے یہ کمزور پڑتا ہے
اس بیماری کی چند نشانیاں
  • جانوروں کی بھوک میں کمی
  • اسہال جو خونی ہوسکتا ہے (diarrhea)

کیسیوس لیمفاڈینائٹس

یہ ایک قسم کی چھوت کی بیماری ہے۔ جو ایک جانور سے دوسرے جانور میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔ عموما دیکھا گیا ہے کہ یہ بیماری تین ہفتے سے بیس ہفتے کے درمیان کی عمر کے جانور کو ہوتی ہے۔ یہ جانور کے جسم کے مختلف حصوں میں اندرونی یا بیرونی پھوڑے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اسے "ابسکیساس” بھی کہا جاتا ہے جو کہ مواد سے بھری ہوئی انفیکشن ہوتی ہے۔

کیسیوس لیمفاڈینائٹس(CL)

جب پھوڑے پھٹ جاتے ہیں تو پیپ دوسرے بکروں کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔ آپ کو ہمیشہ سی ایل فری جانور خریدنا چاہئے۔ اس بیماری کی وجہ سے جانوروں کے وزن میں تیزی سے کمی واقع ہوتی ہے۔ اور اکثر اوقات جانوروں کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔

اس بیماری کا علاج
  • جراثیم کش دوائیں
  • امدادی نگہداشت
اس بیماری کی روک تھام
  • بائیو سکیورٹی کے سخت اقدامات
  • ریوڑ سے بیمار جانوروں کا خاتمہ
  • ویکسینیشن
  • جانوروں کے مابین پیداواری طریقہ کار (کاسٹریشن ، کان ٹیگنگ وغیرہ) کے لئے استعمال ہونے والی مشینری کا سامان اور دوسرے آلات کی ڈس انفیکشن
  • ماحول میں خطرات کا خاتمہ جو جلد کو ممکنہ طور پر نقصان پہنچا سکتا ہے
  • نئے جانوروں کے تعارف سے قبل گھاووں ، سیرولوجک اسکریننگ اور سنگرودھ کے لئے امتحان

متوجہ ہوں

براہ کرم اپنے جانوروں کی صحت کے ساتھ مت کھیلیں اور کسی بھی صورت اپنے جانور کو خود دوائی مت دیں جب تک ایک ڈاکٹر سے مشورہ مت کر لیں یہ کسی جانور کی زندگی اور موت کا سوال ہے۔

پاکستانی بکروں کے لیے صحت مند چارہ

0
پاکستانی بکروں کے لیے صحت مند چارہ

جانوروں کے لئے چارہ ایک اہم غذائی عنصر ہے جو انہیں صحت مند رکھنے میں میں میسر ہے۔ جب آپ بکرے پالنا شروع کرتے ہیں تو آپ کو فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ آپ کس مقصد کے لیے بکروں کو پالنا چاہتے ہیں۔ بکریاں اور بکرے مختلف وجوہات سے پالی جاتی ہیں۔ جن میں سے ذریعہ معاش عروج پر ہے۔

جب بھی آپ بکریاں اور بکروں کا کاروبار شروع کرنے لگتے ہیں تو آپ کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آپ کس قسم کی بکری اور بکرے کا انتخاب کریں گے۔ مطلب گوشت کے لئے یا دودھ کی پیداوار کے لئے۔ پھر بات آتی ہے ان کی خوراک کی۔

بکری اور بکرے کا انتخاب اور اس سے لیے جانے والے نتائج سب کے سب خوراک پہ منحصر ہوتے ہیں۔ لہذا آپ کو بکروں اور بکریوں کی خوراک کے بارے میں معلوم ہونا بہت ضروری ہے تبھی آپ ایک صحت مند بکری کی یا بکرے کی پرورش کر سکتے ہیں۔

یاد رکھیں کسی بھی صورت میں اپنے جانوروں کا چارہ ایک دم تبدیل نہ کریں۔ مطلب اگر آپ انہیں روزانہ کی بنیاد پر کچھ کھلا رہے ہیں تو اس کو اچانک نہ بدلیں۔ اپنے جانوروں کو کبھی بھی زیادہ مقدار میں تازہ سبزی نہ کھلائیں۔

اگر آپ ایسا کچھ بھی کرتے ہیں تو نہ صرف آپ کے جانوروں میں بدمزگی پیدا ہوگی بلکہ ان میں بیماریوں کا عنصر بھی بڑھتا چلا جائے گا۔ یاد رکھیں جانوروں میں پائی جانے والی ہر بیماری ان کے پیٹ اور منہ سے جنم لیتی ہے لہذا ان کی خوراک میں احتیاط کریں۔

بکری چراگاہ

آپ اپنے جانوروں کو کچھ بھی کھلا سکتے ہیں۔ مگر بکروں کو سب سے زیادہ تازہ چاراجات اور گھاس پھوس پسند ہے۔ زیادہ تر مویشی پالنے والے اپنے بکروں کو چراگاہوں میں چراتے ہیں۔ جہاں مویشی اپنی مرضی سے گھاس پھوس اور درختوں کی ٹہنیاں خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

پہاڑی علاقوں میں پائے جانے والے مویشی بخوبی یہ جانتے ہیں کہ ان کو کس قسم کی جڑی بوٹی پہاڑوں سے کھانی ہے جو ان کو صحت یابی عطا فرمائے۔ اگر آپ بھی ایک عرصے سے مویشی پال رہے ہوتے تو آپ کو بھی بخوبی معلوم ہوتا کہ کون سی جڑی بوٹی کس مقصد کے لئے آپ اپنے مویشی کو کھلا سکتے ہیں۔

بکرے چار پیٹ والے جانوروں میں شامل ہیں۔ جو اپنی ضرورت سے زیادہ خوراک کو اپنے پیٹ میں ذخیرہ کر لیتے ہیں اور ایک پیٹ سے دوسرے پیٹ میں ہضم ہونے کے لئے خوراک کو گردش میں رکھتے ہیں۔ جس کی وجہ سے یہ اپنی توانائی کو ایک لمبے عرصے تک برقرار رکھ سکتے۔ مگر اس کے باوجود ان کو ایک دن میں کم سے کم دو مرتبہ خوراک فراہم کرنی چاہیے۔

گھاس کھانا

گھاس قدیم زمانے سے جانوروں کا پسندیدہ چارہ سمجھا جاتا ہے۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ جدت نے گھاس کی جگہ دوسرے چاراجات کو متعارف کروایا۔ سردیوں میں جب چارے کی قلت ہوتی ہے تو بکروں کی زیادہ تر خوراک جھاڑیوں میں اگنے والے پودوں کو استعمال کرکے پوری کی جاتی ہے۔

بکروں کی خوراک میں کم سے کم روزانہ کی بنیاد دے چار کلو چارہ مہیا کیا جانا چاہیے اور بکروں کو دن میں ایک سے دو بار خوراک دینی چاہیے۔ یاد رہے ایک بکرے کی خوراک کم سے کم چار کلو چارہ پوری کرتا ہے۔

اناج کا چارہ / خشک فیڈ

اناج سے تیار کیے جانے والا چارہ زیادہ غذائیت کا حامل ہوتا ہے۔ اس چارے میں زیادہ پروٹین زیادہ ویٹامن اور زیادہ معدنیات کی کثرت کی وجہ سے جانوروں کی برھوتری میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔ خشک چارہ کھانے والے جانوروں کی صحت قدرے بہتر ہوتی ہے گھاس کھانے والے جانوروں سے اور ان میں بیماریاں کم پائی جاتی ہے۔

خشک چارے کو خوراک کے طور پر استعمال کرنے سے جانور کی صحت میں بہت اچھا اثر پڑتا ہے۔ مگر خوراک متوازن ہونی چاہیے۔ اگر خوراک ضرورت سے زیادہ دی جائے تو جانوروں کی صحت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ لہٰذا خوراک بناتے وقت ایک ڈاکٹر کا ہونا لازمی ہے۔

اپنے جانوروں کے لئے خشک خوراک کسی ویٹرنری ڈاکٹر کی مشاورت سے تیار کریں۔ یا پھر کسی ویٹرنری ڈاکٹر کی تیار شدہ خوراک کا انتخاب کریں۔

باورچی خانے کا سکریپ

آپ اپنے بکروں کو کو اپنے باورچی خانے کا بچا ہوا کھانا بھی ڈال سکتے ہیں۔ بکروں کو سبزیاں بہت ہی پسند ہیں اور وہ ان کے لئے یہ ٹریٹ کا کام کرتی ہے۔ مطلب اگر آپ ایک مہینے میں دو سے تین مرتبہ اپنے بکروں کو اپنے گھر کا بچا ہوا کھانا ڈالیں تو آپ کے بکرے بڑے شوق سے اس کی طرف راغب ہوں گے۔

گھر کے بچے ہوئے کھانے سے مراد خشک روٹیاں یا بریڈ ہے یا پھر سبزیوں کے چھلکے ہیں۔ کبھی بھی بکروں کو زیادہ مقدار میں سبزیاں اور باورچی خانے کا بچا ہوا کھانا نہ کھلائیں۔ باورچی خانے کا بچا ہوا کھانا صرف عارضی طور پر خوراک کا کام کرتا ہے اس کو مکمل طور پر خوراک کا حصہ نہ بنائیں۔

معدنیات

جب تک کسی بکرے کی ضرورت کے مطابق غذائیت کو مکمل نہیں کیا جائے گا تب تک وہ تیزی سے بڑھ نہیں سکتا۔ اسی لیے خوراک کے ساتھ یہ بھی لازم ہے کہ آپ اپنے بکروں کو معدنیات ایک خاص مقدار میں ضرور دیں۔ معدنیات کے معاملے میں آپ کسی ویٹرنری ڈاکٹر سے اظہار رائے کرسکتے ہیں جو آپ کے جانور کی صحت کے مطابق آپ کو معدنیات کے بارے میں تفصیل سے بتائیے گا۔

عام طور پر آپ نمک کے ڈھیلے اپنے فارم میں رکھ سکتے ہیں۔ جن کو بکرے اپنی ضرورت کے مطابق خود چاٹ کر معدنیات حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ بھی بہت سی ایسی معدنیات ہیں جو آپ کو ادویات کی شکل میں اپنے جانوروں کو دینی ہوتی ہے۔

میٹھا پانی

اپنے بکروں کے لئے پانی کی رسائی کو ہر وقت یقینی بنائیں۔ جانوروں کے پاس ہر وقت پانی کی رسائی ہونا بہت لازمی ہے۔ اپنے جانوروں کو ہر وقت باندھ کر مت رکھیں بلکہ انہیں کھلا رہنے دے تاکہ یہ چل پھر کر اپنا کھانا ہضم کر لے اور اپنی رہنے کی جگہ سے خوب واقف رہیں۔

کوشش کریں کہ اپنے جانوروں کو مہینے میں ایک دفعہ کیلشیم سپلیمنٹ پانی میں ملا کر پلائیں۔ گڑ کو پانی میں ملا کر اپنے جانوروں کو ہفتے میں ایک دفعہ ضرور دیں۔

کھلانے کے اوزار

بکروں کو کھانا کھلانے کے لیے آپ کو چند ایسے اوزاروں کی ضرورت ہے جو آپ کی معاونت کریں۔ اس میں زیادہ مہنگے اوزار خریدنے کی ضرورت نہیں بلکہ آپ گھر کی پرانی اشیاء سے بھی اوزاروں کو تیار کر سکتے ہیں۔جس میں ایک کھرلی شامل ہے جو کہ چارہ کھلانے کے کام آئے گی۔ پانی کے لئے چند ڈبے جو کے مختلف جگہ پر محیط ہوں گے۔

چند مفید اوزار

  • اسٹوریج کنٹینر
  • معدنیات سے متعلق فیڈر
  • کھانے کی بالٹیاں
  • کھرلی
  • پانی کی بالٹیاں

پاکستانی بکرے

کیا آپ درانتی (اسکائٹ) کے بارے میں جانتے ہیں

0
کیا آپ درانتی (اسکائٹ) کے بارے میں جانتے ہیں

(اسکائٹ) درانتی زراعت میں استعمال ہونے والا قدیم اوزار ہے۔ یا یوں کہا جائے یہ ایک قسم کی ہاتھ درانتی ہے۔ آج کے جدید دور میں میں اس کی جگہ ٹریکٹر سر اور گھوڑوں نے لے لی ہے۔ لیکن پھر بھی ایشیا کے کئی ممالک میں اس کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کو گھاس اور فصل کاٹنے کے لئے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا تھا۔

اس کی مدد سے کسان کھڑے کھڑے اپنے اردگرد کے رقبے سے گھاس اور فصل کو کاٹ لیتا تھا۔ اس کے منہ کی جانب ایک تیز دھار بلیڈ اور مضبوطی سے پکڑنے کے لیے ایک لکڑی کا ڈنڈا لگا ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں اس کے مختلف نام ہیں اور اس کی مختلف اقسام ہیں جن کو کسان استعمال کرتے تھے۔ کسان اس اوزار کی مدد سے باآسانی 45 اور 180 کے زاویے پر گھاس اور فصل کی کٹائی کرسکتا تھا۔

اس اوزار کی مدد سے نہ صرف فصل کی کٹائی جلدی ہو جاتی تھی بلکہ زیادہ رقبے پر کٹائی کی جاسکتی تھی۔ نیچے دی گئی تصویر سے آپ باآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ اس اوزار کو کیسے چلایا جاتا ہوگا۔ کسان اس کو اپنے دائیں جانب سے بائیں جانب گھماتا تھا اور ایک وسیع رقبے سے گھاس اور فصل کو کاٹ لیتا تھا۔

برسلز لگانے کا طریقہ

0
برسلز لگانے کا طریقہ

برسل جمیفرا گروپ کے گوبھی کے کنبے کا رکن ہے۔ یہ سبزی لگانا نسبتا آسان ہے اور زیادہ جگہ کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ کسی بھی دوسری نامیاتی سبزی کی طرح، اس میں ریشے، وٹامنز، اینٹی آکسیڈینٹ وغیرہ بہت پائے جاتے ہیں۔

موسم سرما کی فصلوں کی عالمی سطح پر مانگ میں اضافہ ہورہا ہے۔ اور برسل جو سردیوں کی فصل ہے، توقع کی جاتی ہے کہ اس کی مانگ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ جو معاشی طور پر منافع بخش ہے۔

برسلز لگانا

  • برسل اسپرٹ کی بڑھوتری کے لئے ایک طویل موسم کی ضرورت ہوتی ہے اور موسم خزاں یا ابتدائی سرد موسم کٹائی کے لئے مثالی ہیں۔
  • موسم خزاں کی پہلی ٹھنڈ سے چار ماہ قبل برسل کے بیج بوئیں۔ ایک ایسے خطے میں جہاں درجہ حرارت زیادہ تر منجمد سے کم ہو۔ بیجوں کو موسم بہار کی پہلی ٹھنڈ کی آخری تاریخ سے دو سے تین ہفتے پہلے گھر کے اندر بویا جانا چاہئے۔ ہلکی سردی یا زیادہ سردی والے علاقوں میں بالترتیب گرمی کے وسط اور گرمی کے آخر میں باہر بیج بوئیں۔ برسل کمل دھوپ کی روشنی میں پنپتی ہے۔
  • سردیوں کی فصلوں کے لئے باغ کے بیڈ کو پودے لگانے کی جگہ کے طور پر استعمال کرنے کی سفارش کی جاتی ہے۔ خاص طور پر جب موسم یا درجہ حرارت مستقل نہ ہوں۔ مٹی میں کچھ انچ کھاد ڈالیں اور بیج لگانے یا پیوند لگانے سے کچھ دن پہلے اچھی طرح کام کریں۔
  • براہ راست بوائی کے بیجوں کو آدھا انچ گہرائی اور دو سے تین انچ کے فاصلے پر لگانا چاہئے۔ جبکہ ٹرانسپلانٹڈ پودے بارہ سے چودہ انچ کے فاصلے پر  لگائے جائیں۔
  • باہر لگاتے وقت لگاتار پانی دیں اور اس کے بعد ایک سے ڈیڑھ انچ فی ہفتہ۔

دیکھ بھال

  • ایک بار جب پودا چھ انچ لمبا ہو جائے تو اسے بارہ سے چودہ انچ کے فاصلے پر کر دیں۔
  • ہر تین سے چار ہفتوں میں نائٹروجن سے بھرپور مصنوعی کھاد استعمال کریں۔ 
  • مٹی کی نمی برقرار رکھنے اور مٹی کے درجہ حرارت کو کم رکھنے کے لئے ملچ کا استعمال کریں۔
  • گرم آب و ہوا کے دوران پودوں کو اچھی طرح سے پانی دینا چاہئے۔
  • برسل کی جڑوں کو نقصان پہنچنے کا امکان ہوتا ہے لہذا ہوشیار رہیں اور ان کو پریشان نہ کریں۔
  • کسی بھی پیلے رنگ کے پتے کو ہٹا دیں تا کہ تنے کو بہتر سورج کی روشنی ملتی رہے۔
  • کٹائی سے چند ہفتے پہلے اوپر والے پتے کاٹ دیں۔
  • سردیوں کے موسم میں برف باری سے بچانے کے لئے فصلوں کے اوپر والے پتوں کو پودوں پر چھوڑ دیں۔
  • اگر فصل سردیوں کے لئے ہو تو پودوں کو ڈھانپنے کے لئے لگ بھگ بارہ انچ ملیچ استعمال کریں۔

کٹائی

ٹھنڈ گزرنے کے بعد سبزی کو اس وقت کاٹ لیں، جب ان کا قطر تقریبا ایک انچ ہو۔ برف باری برسل کو میٹھا اور ذائقہ دار بنانے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ نیچے سے اوپر تک برسل کی کٹائی لازمی ہوتی ہے جب وہ پختہ ہوتے ہیں۔ کٹائی کے لئے سبزی کو تنے سے مروڑ دیں۔  

ذخیرہ

برسل کو ذخیرہ کرنے سے پہلے دھونے سے پرہیز کریں۔ تازہ طور پر چننے والی ٹہنیاں پلاسٹک کے تھیلے میں رکھی جاسکتی ہیں اور پانچ دن تک فریج میں رکھی جاسکتی ہیں۔

مسائل

برسل پودوں میں اکثر کیڑوں اور بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان میں سے چند ایک یہ ہیں:

  • کیڑے
  • گوبھی ایفڈز
  • گوبھی لوپر
  • ڈائمنڈ بیک کیڑے
  • پسو بیٹل

گوبھی ایفڈ ایک ایسا کیڑا ہے جس کی وجہ سے نشوونما میں رکاوٹ ہوتی ہے، یا پھر موت واقع ہوسکتی ہے۔ اگر انفاسٹیشن چھوٹی جگہ پر ہو تو اس کو کاٹا جاسکتا ہے۔ اس پریشانی سے بچنے کے لئے پودے لگانے سے پہلے ہمیشہ ٹرانسپلانٹس کی پڑتال کریں۔ بہترین بیج کا استعمال کریں۔ اگر انفٹیشن بہت زیادہ ہے تو کیڑے مار دواؤں یا کیڑے مار صابن اور تیل کا استعمال کریں۔

گوبھی کے لوپر وہ کیڑے ہیں جو پتوں میں سوراخ چھوڑ دیتے ہیں۔ اگر اس پریشانی کا سامنا ہو تو اسے ہینڈپک کیا جاسکتا ہے بصورت دیگر قدرتی دشمنوں کے ذریعہ ان کو روکنے کی اجازت دی جانی چاہئے۔ 

ڈائمنڈ بیک کیڑوں کے چھو ٹےلاروا جو پتیوں کے اوپر اور نچلے اطراف کو کھاتے ہیں۔ ڈائمنڈ بیک کیڑے پتیوں کے دونوں اطراف پر سوراخ کا سبب بنتے ہیں جبکہ بڑی عمر کا لاروا اوپر کی طرف برقرار رہتا ہے۔ اور نیچے بہت بڑے سوراخ کا سبب بنتا ہے۔ نامیاتی مواد کے ذریعہ ان کا خیال رکھا جاسکتا ہے۔

پسو بیٹل چمکدار کیڑے ہیں جو نمو کو کم کرسکتے ہیں یا پودوں کو ہلاک کرسکتے ہیں۔ نوجوان پودوں کو چوٹ کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس پریشانی سے بچنے کے لئے مٹی کوملچ میں ڈھانپنا مفید ہے۔

بیماریاں

  • الٹرناریہ لیف اسپاٹ
  • کالی سڑ
  • کلب روٹ
  • ڈاون پھپھوندی

الٹیناریا لیف اسپاٹ ایک کوکیی بیماری ہے جس کی وجہ سے تنے اور پتوں پر سیاہ دھبے پڑتے ہیں۔ اس مسئلے سے بچنے کے لئے روگزن سے پاک بیج لگانے یا فصلوں کی گردش کا طریقہ استعمال کیا جاتا ہے۔ جبکہ انتظام کے لئے فنگسائڈس کا استعمال کریں۔

کالی سڑ ایک بیکٹیریل بیماری ہے جس کی وجہ سے پودے زرد ہو جاتے ہیں اور پتوں کی نشوونما کم ہوجاتی ہے۔ یہ پتیوں کے حاشیے پر وی کی شکل اور بڑے سائز کے گھاؤکو بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ اس پریشانی کے انتظام میں فصلوں کی گردش اور بیماری سے پاک بیج کا استعمال شامل ہے۔

کلبروٹ ایک کوکیی بیماری ہے جو نشوونما کو سست کردیتی ہے اور مسخ شدہ اور سوجن جڑوں کا باعث بنتی ہے۔ اور پتیوں کو زرد کردیتی ہے۔ پودے لگانے کے لئے مصدقہ بیجوں کا استعمال اور مٹی میں چونا لگانے سے بیماری کے خلاف مدد مل سکتی ہے۔

ڈاون پھپھوندی بھی ایک کوکیی بیماری ہے جو پتیوں کے اوپری حصے پر کونیی گھاؤ کا سبب بنتی ہے۔ جو آخر کار پیلے رنگ کے دھبوں میں پھیل جاتی ہے۔ مناسب فنگسائڈ کا استعمال  اور فصلوں کی گردش کا طریقہ کار ممکنہ حل ہیں۔

  • موسم خزاں بروسل کی نشوونما کے لئے سب سے موزوں وقت ہے۔
  • برسل کو کم از کم چھ گھنٹے کی سورج کی روشنی حاصل ہونی چاہئے۔ 
  • لگ بھگ دو انچ کے فاصلے پر پودے لگائیں۔
  • مٹی کو اچھی طرح سے سوھا ہونا چاہئے۔
  • بہت بار کھاد نہ دیں۔ ایک مہینہ میں ایک بار کافی ہے۔

برسل کی اقسام

  • بلبلے
  • اولیور
  • جیڈ کراس
  • ڈیابلو
  • گرونجر
  • روبین

اہمیت

ذیل میں برسلز  کے ذریعہ فراہم کردہ صحت سے متعلق فوائد ہیں۔

  • غذائیت سے بھرپور غذائیں جیسے ریشے ، پروٹین ، کارب ، مینگنیج وغیرہ۔
  • یہ اینٹی آکسیڈینٹس سے مالا مال ہیں جو اچھی صحت کو فروغ دیتے ہیں۔
  • مطالعات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس میں موجود غذائی اجزاء کینسر سے بچنے میں مدد کرسکتے ہیں۔
  • ان میں وٹامن سی کی مقدار بہت زیادہ ہے۔ 
  • اس میں فائبر کی مقدار زیادہ ہے جو عمل انہضام کے بہتر نظام کو فروغ دیتی ہے۔
  • برسل بہت سی اقسام میں پائے جاتے ہیں اور بہت سی مختلف ترکیبوں میں استعمال ہوتے ہیں ، جس سے ان کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ انہیں پکا کر یا ابال کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

نتیجہ 

جیسے جیسے دنیا کی آبادی بڑھتی جارہی ہے ، کھانے کی طلب میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ مقامی طور پر پیدا ہونے والی سردیوں کی فصلوں کی پہلے سے ہی زیادہ مانگ ہے ، لہذا برسل بھی بہت مقبول ہے۔

برسل کاشت کرنے میں آسان ہیں اور انہیں کسی اعلی سرمایہ کاری کی ضرورت نہیں ہوتی ہے جب کہ  نتیجے میں وسیع پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ ان کے طبی اور معاشی فوائد بے پناہ ہیں۔ برسل فروخت کے ساتھ ساتھ گھریلو استعمال میں بھی فائدہ مند ہے۔

Follow Us

465FansLike
0FollowersFollow
4FollowersFollow
0SubscribersSubscribe